ڈالفن-ڈاکٹرقمر شریف
DOLPHIN BY DR.
QUAMAR SHARIF
عام
طور پر ہر جانور یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں سے بچ کر رہے۔ مچھلی کے بارے میں
مشہور ہے کہ وہ انسان کی بؤ پاتے ہی گہرے پانی میں چلی جاتی ہے لیکن مچھلی ہی کی
طرح ایک سمندری جانور ایسا بھی ہے جو انسانوں سے نہیں ڈرتا اور نہ دور بھاگنے کی
کوشش کرتا ہے، وہ ہے ڈالفن ۔
ڈالفن
دودھ پلانے والا ایک سمندری جانور ہے۔ اس کی لمبائی چھے سے بارہ فٹ تک ہوتی ہے اور
وزن ۱۵۰
تا ۶۵۰
کلوگرام ہوتا ہے۔ اس کی پیٹھ مٹیالی، مٹیالی سبز اور سیاہ رنگ کی ہوتی ہے جبکہ پیٹ
کا رنگ سفید یا ہلکا گلابی ہوتا ہے۔ یہ تمیں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تیرتی ہے۔
کبھی اس کی رفتار چالیس تا ساٹھ میل فی گھنٹہ بھی ہو جاتی ہے۔
ڈالفن
کے جسم پر بال نہیں ہوتے ۔ اس کی جلد چکنی ہوتی ہے۔ جبڑے بڑے اور سامنے چونچ کی
طرح تین انچ لمبی تھوتھنی ہوتی ہے۔ ڈالفن
اپنے سر کے ایک سوراخ سے سانس لیتی ہے۔ اس کی آنکھیں سر کے دونوں جانب پائی جاتی ہیں۔
ڈالفن کی نظر بہت تیز ہوتی ہے۔ آنکھوں کے پیچھے بیرونی کان کے شگاف پائے جاتے ہیں۔
ڈالفن
کے دانت غذا کو چبا نہیں سکتے۔ یہ اس کو اپنا دفاع کرنے اور شکار پکڑنے میں مدد دیتے
ہیں اور پانی میں آواز کی لہروں کو اس کے اندرونی کان تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح
ڈالفن کسی چیز کا صحیح مقام معلوم کر لیتی ہے۔ اس کی چھونے کی حس بہت تیز ہے لیکن
سونگھنے کی قوت بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی غذا مچھلیاں ، جھینگے اور دوسرے آبی جاندار
ہیں۔ ڈالفن ایک بہت ذہین جانور ہے۔ اس کا دماغ انسان کے دماغ سے بڑا ہوتا ہے۔
ڈالفن
گروہ میں رہنا پسند کرتی ہے۔ ان کا ایک گروہ دوتا چالیس ڈالفنوں پر مشتمل ہوتا ہے
لیکن کبھی کبھی ان کی تعدادسینکڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ڈالفن اپنے بچوں اور گروہ سے
سیٹی کے ذریعے رابطہ رکھتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ہر ڈالفن کی سیٹی گروہ کی
دوسری ڈالفن سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ کئی قسم کی آوازیں نکال سکتی ہے۔ انسان کی طرح
ہنس سکتی ہے، سیٹی بجا سکتی ہے، شکار کا پیچھا کرتے ہوئے غُرّاتی ہے، شکار پر قابو
پانے پر خوشی سے ’میاؤں ‘کی آواز نکالتی ہے، نیز دشمن کو ڈرانے کے لیے اونچی آواز
میں چلاتی ہے۔ ڈالفن کئی بار ایسی آوازیں بھی نکالتی ہے جیسے کوئی آدمی زور زور سے
بول رہا ہو۔ آدمی جب پلٹ کر دیکھتا ہے تو کسی کو نہ پا کر حیران رہ جاتا ہے۔
ڈالفن
اور انسان کی دوستی کے بہت سے واقعات مشہور ہیں۔ قدیم کہانیوں اور تصویروں میں جو
اشارے ملتے ہیں ، ان سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے
بھی ڈالفن انسانوں سے دوستی کرنے کی آرزو مند رہتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک آدمی شارک
مچھلی کے گھیرے میں آگیا۔ شارک اس کے ٹکڑے کرنے ہی والی تھی کہ وہاں کچھ ڈالفنیں پہنچ
گئیں ۔ ان میں سے ایک نے اس آدمی کو شارک کے چنگل سے چھڑا کر اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا
اور تیزی سے کنارے پر پہنچا دیا۔ آدمی جیسے ہی اس کی پیٹھ سے اُترا، ڈالفن سمندر میں
غائب ہو گئی۔
ایک
دفعہ کی بات ہے۔ فلوریڈا (امریکہ) کے سمندری کنارے سے ایک خاتون کو سمندر کی
زبردست لہریں بہا کر لے گئیں۔ کچھ لمحوں تک اس نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔
اچانک اسے ایسا لگا جیسے کوئی گِلگِل سی چیز اسے کنارے کی طرف ڈھکیل رہی ہے۔ تھوڑی
دیر بعد اس خاتون نے اپنے آپ کو کنارے پر پایا۔ بعد میں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
تو ایک چمکدار شے اسے تیزی سے سمندر میں غائب ہوتی نظر آئی۔ ایک آدمی نے جو اس
سارے واقعے کو دیکھ رہا تھا، بتایا کہ وہ ڈالفن تھی۔ ڈالفن نے کئی جہازوں کو
چٹانوں سے ٹکرانے سے بچایا اور انھیں صحیح راہ دکھائی۔ ڈالفن کے گروہ مچھلیاں
پکڑنے میں ماہی گیروں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ ان کے گروہ مچھلیوں کو گھیر کر ماہی گیروں
کے قریب لے آتے ہیں اور پھر یہ اپنے سر اور ڈم کی حرکت سے ماہی گیروں کو جال
کھولنے کا اشارہ کرتے ہیں۔
تقریبا
پچاس برس قبل نیوزی لینڈ کے ایک جزیرے پر جیسے ہوئے گاؤں میں ایک ڈالفن سمندر کے
کنارے آئی اور پانی میں کھیلنے لگی۔ بچوں نے اس کے کرتبوں کو پسند کیا اور ڈالفن
سے ان کی دوستی ہوگئی ۔ وہ بچوں کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر سمندر کی سیر کراتی ۔ وہ
ان بچوں کے ساتھ کھیلتی۔ اسے رنگ برنگی گیند سے کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ جب کوئی گیند
اس کے پاس پھینکی جاتی تو وہ اسے اپنی تھوتھنی یا دم سے ہوا میں اُچھالنے کی کوشش
کرتی۔
ڈالفن کو غصہ بہت کم آتا
ہے۔ کھیلنا کودنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا اسے اچھا لگتا ہے۔
ڈالفن
سمندر کے متعلق تحقیق کرنے والوں کی بھی مدد کرتی ہے۔ چنانچہ ۱۹۶۰ء میں جب امریکی سائنس
دانوں نے سمندر کی تحقیق شروع کی تو ایک ڈالفن نے ان کی کافی مدد کی ۔ سائنس دانوں
نے گہرے پانی میں ایک تجربہ گاہ بنائی تھی۔ جب کبھی سائنس داں راستہ بھول جاتے ،
ڈالفن انھیں تجربہ گاہ تک پہنچاتی کبھی کبھار وہ سائنسی آلات بھی تجربہ گاہ تک لے
جاتی تھی۔ غرض ڈالفن قدرت کی ایسی مخلوق ہے جسے ملنساری اور انسان دوستی کی وجہ سے
چھوٹے بڑے، سب پسند کرتے ہیں۔