ڈاکٹر رادھا کر شنن-ڈاکٹر محمد اسد اللہ
DR. RADHAKRISHNAN BY MUHAMMAD ASADULLAH
۵
ستمبر ۱۸۸۸ء
کو مدراس (چینی) کے ایک برہمن خاندان میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کی والدہ کا نام
ترومستی سیتا اور والد کا نام ویر سوامی تھا۔ ماں باپ نے اس بچے کا نام رادھا
کرشنن رکھا۔ بڑے ہو کر رادھا کرشنن ایک عظیم فلسفی اور ماہر تعلیم فا کے طور پر
مشہور ہوئے ۔ آگے چل کر وہ ملک کے صدر بھی بنے۔
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے
کے بعد رادھا کرشنن کو مشن اسکول میں داخل کیا گیا۔ اپنی ذہانت کے سبب وہ امتحان میں
اچھے نمبرات حاصل کر لیا کرتے تھے۔ انھوں نے اعلی تعلیم ویلور اور چینی کے کالجوں
میں مکمل کی ۔ ۱۹۰۸ء
میں فلسفے میں ایم ۔ اے کا امتحان پاس کر کے وہ پریسیڈنسی کالج چینی میں پروفیسر
بن گئے۔ اپنی قابلیت، سادہ مزاجی اور ملنساری سے وہ طلبہ کے دل جیت لیتے تھے۔ جب
ان کا تبادلہ میسور سے کلکتہ ہوا تو الوداع کہنے کے لیے طلبہ نے انھیں ایک رتھ پر
سوار کیا اور اسے کھنچتے ہوئے ریلوے اسٹیشن تک لے گئے ۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن اپنے
شاگردوں کی اس عقیدت اور محبت سے بہت متاثر ہوئے۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن ایک
کامیاب مدرس تھے اور مصنف بھی۔ ان کی تصانیف اور مرتب کی ہوئی کتابوں کی تعداد ڈیڑھ
سو سے زیادہ ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں، ویدوں کی تعلیمات سے متعلق انھوں نے ایک
کتاب لکھی۔ اس وقت وہ صرف بیس برس کے تھے۔ ان کی یہ کتاب بہت مشہور ہوئی جسے پڑھ
کر رادھا کرشنن کے پروفیسر نے انھیں ایک سند دی تھی۔ یہ اُن کے لیے بڑا اعزاز تھا۔
ان کی ایک اور کتاب 'انڈین فلاسفی، دنیا بھر میں مشہور ہوئی ۔ اسی بنیاد پر انھیں
آکسفورڈ یونیورسٹی میں مدعو کیا گیا۔ اپنی تعلیمی ) لیاقت کی وجہ سے ۱۹۵۲ء میں وہ اس یونیورسٹی کے
اعزازی فیلو بنائے گئے ۔ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن ایک
جادو بیان مقرر تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ فلسفے اور دیگر علوم پر ان کی گہری
نظر تھی۔ انگریزی میں روانی کے ساتھ تقریر کی صلاحیت کے سبب برٹش اکیڈیمی نے انھیں
تقریر کی دعوت دی۔ حکومت ہند کی جانب سے انھیں ۱۹۵۴ء میں ہندوستان کے سب سے
بڑے اعزاز بھارت رتن سے سرفراز کیا گیا۔ ان کی علمی صلاحیتوں کے اعتراف میں دنیا کی
سترہ یونیورسٹیوں نے انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اپنی
ساری زندگی علمی خدمات کے لیے وقف کر دی۔ انھیں اپنے پیشے پر بڑا ناز تھا۔ وہ فخر
سے کہا کرتے ، ” میں ایک مدرس ہوں ۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی پیدائش کے دن کو یوم
اساتذہ کے طور پر منایا جائے۔ ان کی اس خواہش کے احترام میں ہمارے ملک میں ۵ ستمبر ۱۹۶۲ء سے یوم اساتذہ منایا
جاتا ہے۔ اس موقع پر مرکزی اور ریاستی حکومتیں مثالی مدرسین کا انتخاب کرتی ہیں
اور انھیں انعامات سے نوازتی ہیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے
رادھا کرشنن کی تعلیمی لیاقت اور اعلیٰ قابلیت کے پیش نظر انھیں روس کا سفیر مقرر
کیا تھا۔ جب وہ رؤس پہنچے تو وہاں کے صدر اسٹالن خود ان سے ملاقات کے لیے آئے۔
اسٹالن ڈاکٹر رادھا کرشنن کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ ایک مرتبہ اپنے ملک روس کی ترقی
کو فخر سے بیان کرتے ہوئے اسٹالن نے ان سے کہا تھا ، سائنس کی ترقی کی بنیاد پر
ہمارا ملک آپ کو یہ سکھا سکتا ہے کہ مچھلیوں کی طرح سمندر میں کیسے تیرا جائے اور
پرندوں کی طرح آسمان میں کیسے اڑا جائے ۔ رادھا کرشنن نے جواب دیا ، اور ہمارا ملک
آپ کو یہ سکھا سکتا ہے کہ انسانوں کی طرح زمین پر کیسے چلا جائے ۔ ڈاکٹر رادھا
کرشنن رؤس سے رخصت ہونے لگے تو صدر اسٹالن رات کے ایک بجے ان سے ملنے آئے ۔ روس کے پر
تمام افسر اور عوام اسٹالن سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے اور ہمیشہ ان سے دور رہنے کی
کوشش کیا کرتے تھے۔ اس ملاقات کے دوران ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بڑی شفقت اور محبت سے
اسٹالن کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیٹھ کو تھپتھپایا تو ان کی زبان پر بے ساختہ یہ
الفاظ آئے ، " آپ پہلے شخص ہیں جو میرے ساتھ ایک انسان کا برتاؤ کر رہے ہیں
اور مجھے کوئی بھوت یا ظالم نہیں سمجھ رہے ہیں ۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن آزاد
ہندوستان کے نائب صدر کے عہدے پر دو بار منتخب ہوئے ۔ ۱۹۶۲ء میں انھیں ملک کا صدر
بنایا گیا۔ صدارت کے عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ مستقل طور پر چینی میں رہنے
لگے تھے۔ ۷
ار اپریل ۱۹۷۵ء
کو دل کی حرکت بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہو گیا۔
اپنے علم، قابلیت اور خدمات سے ساری
دنیا کو متاثر کرنے والی اس شخصیت کے کارنامے یقیناً ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔