ایک بوند کی ہمّت۔ڈاکٹر محمد اقبالؔ
EK
BOOND KI HIMMAT BY ALLAMA IQBAL
کہتے ہیں ایک سال نہ بارش ہوئی کہیں
گرمی سے
آفتاب کی، تپنے لگی
زمیں
تھا آسمان پرنہ
کہیں انر کا نشاں
پانی ملا نہ
جب تو ہوئیں خشک
کھیتاں
منہ تک رہی تھی خشک زمیں آسمان کا
اُمید ساتھ چھوڑ
رہی چکی تھی کسان کا
بارش کی کچھ اُمید نہ تھی اُس غریب کو
یہ حال تھا کہ جیسے کوئی
سوگوار ہو
ہر بارش آسما ن
کی طرف دیکھتا تھا وہ
بارش کے
انتظار میں گبھرا رہا
تھا وہ
ناگا ہ ایک ابر کا
ٹکڑا نظر پڑا
لاتی تھی اپنے ساتھ اُڑاکر جیسے ہوا
پانی کی ایک بوند نے تاکا اِدھر اُدھر
بولی وہ، اُس کسان کی
حالت دیکھ کر
ویران ہوگئی
ہے جو کھیتی غریب کی
ہے آسمان پر نظر اِ س
بد نصیب کی
میری یہ آرزو ہے
کہ اِس کا بھلا
کروں
یعنی برس کے کھیت کو اِس کے
، ہرا
کروں
بوندوں نے جب سنی،یہ سہلی
کی گفتگو
ہنس کر دیا جواب کہ اللہ رے آرزو
تو ایک ذراسی بوند
ہے ، اِتنا بڑا یہ کھیت
تیرے ذروسی نم سے نہ ہوگا ہرا
کھیت
اُس بوند نے
مگر یہ بگڑ کر دیا جواب
کہہ دی وہ بات ، جس نے کیا سب کو لا جواب
نیکی کی
راہ میں کبھی
ہمت نہ ہارے
مقدور ہو تو
عمر اسی میں
گزارے
قربان اپنی
جان کروں گی
کسان پر
کیا لو ں گی
میں ٹھہر کے یہاں
آسمان پر
لو،میں چلی، یہ کہہ
کے روانہ ہوئی وہ بوند
بوندوں کی انجمن میں یگانہ ہوئی وہ بوند
دیکھا سہیلیوں
نے تو حیران ہو گئیں
ہمّت کے اِس پہ کی
سب نے آفرین
بولیں کہ
چاہیے نہ سہیلی کو
چھوڑنا
اچھا نہیں ہے
منہ کو رفاقت
سے موڑنا
یہ کہہ کے ایک
ساتھ وہ بوندیں رواں ہوئیں
چھینٹا سا بن ے
کھیت کے اوپر برس گئیں
اُجڑا ہوا جو کھیت
تھا آخر ہرا
ہوا
یہ صرف
ایک بوند کی
ہمّت کا کام تھا