HADRATH ABUBAKAR SIDDIQUE|حضرت ابو بکر صدیق-محمد حسن فاروقی

HADRATH ABUBAKAR SIDDIQUE 

حضرت ابو بکر صدیقؓ-محمد حسن فاروقی


حضرت ابو بکر صدیقؓ یہ مضمون محمد حسن فاروقی کا لکھا ہوا ہے۔ یہ مضمون مہاراشٹراسٹیٹ بورد کے جماعت پنجم کے اردو نصاب میں شامل ہے۔ یہ مضمون طلبہ، اساتذہ اور سرپرست حضرات کے مطالعہ کی آسانئ کے لئے یہاں شائع کیا جاتا ہے 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکے میں ۵۷۳ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ اچھے اخلاق کی وجہ سے لوگ اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی وہ شرک اور شراب نوشی کو برا جانتے تھے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انھوں نے اُسے فوراً قبول کر لیا۔ اس کے بعد وہ تن من دھن سے دین کو پھیلانے میں لگ گئے۔

اُس زمانے میں عرب میں غلامی کا رواج تھا۔ بہت سے غلام اسلام میں داخل ہو گئے تھے اس لیے انھیں اپنے مالکوں کے ظلم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان غلاموں میں حضرت بلال بھی شامل تھے۔ ایک دن حضرت ابوبکر دو پہر کے وقت راستے سے گزر رہے تھے۔ اُنھوں نے دیکھا کہ حضرت بلال کے آقا نے انھیں تپتی ریت پر لٹا دیا ہے اور اُن کے سینے پر بڑا سا پتھر رکھ کر دھمکی دے رہا ہے کہ اسلام چھوڑ دے ورنہ تجھے تڑپا تڑپا کر مار ڈالوں گا ۔“ وہ روزانہ حضرت بلال کو اسی طرح تکلیفیں دیتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق اس دردناک منظر کی تاب نہ لا سکے۔ اُنھوں نے اس ظالم آقا سے حضرت بلال کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اسی طرح اُنھوں نے ایسے بہت سے غلام خرید کر آزاد کیے۔

مکے میں خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثاروں کو بہت ستایا جاتا تھا۔ حضرت ابوبکر ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ حضور کو کوئی تکلیف نہ پہنچنے پائے۔ جب کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا، وہ فورا موقع پر پہنچ جاتے اور آپ کا ساتھ دیتے۔

ایک مرتبہ دشمنوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور جسمانی تکلیف پہنچانے لگے۔ کسی میں اُن کو روکنے کی ہمت نہ تھی لیکن حضرت ابوبکر نے اپنی جان کی پروا نہ کی ۔ وہ دشمنوں کے مجمع میں گھس گئے اور حضور کو اُن کے درمیان سے نکال لائے۔

جب مکہ والوں کا ظلم اور زیادتی بڑھتی گئی تو اللہ کے حکم سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت کا ارادہ کیا۔ آپ نے حضرت ابو بکڑ ہی کو اپنے سفر کا ساتھی بچنا ۔ ایک رات دونوں نے کتے کو الوداع کہا، وہ جبل ثور پہنچے اور اُس کے ایک غار میں تین راتوں تک ٹھہرے رہے۔ یہ غار، غار ثور کہلاتا ہے۔ اس دوران میں بھی حضرت ابوبکر نے ہر طرح سے حضور کا خیال رکھا۔

مدینہ پہنچنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ایک عام مہاجر کی سی زندگی بسر کرنے لگے۔ مدینے میں ایک مسجد تعمیر کرنی تھی جس کے لے لیے حضور نے زمین کا ایک ٹکڑا پسند کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے نہ صرف اُس کی قیمت ادا کی بلکہ خود سرور عالم کے ساتھ مسجد بنانے میں شریک رہے۔

ایک مرتبہ دشمنوں سے مقابلے کے لیے کثیر رقم کی ضرورت تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے مدد کرنے کے لیے کہا۔ اس نیک کام میں ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حضرت ابو بکڑا اپنے گھر کا سارا مال و اسباب اُٹھا لائے اور حضور کے قدموں میں ڈال دیا۔ آپ نے پوچھا، " ابوبکر ! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ؟ اانھوں نے جواب دیا ، اُن کے لیے اللہ اور اُس کا رسول کافی ہیں ۔“

اخیر عمر میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم بہت بیمار ہو گئے ۔ نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں آنے کی طاقت بھی آپ میں نہ رہی ۔ حضرت عائشہ کے ذریعے آپ نے حضرت ابو بکر صدیق و کم دیا کہ و نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر حضور کی بات کیسے ٹال دیتے۔ چنانچہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ انھوں نے مسجد نبوی میں تین دن نماز پڑھائی۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں نے حضرت ابو بکر کو اپنا خلیفہ بنایا۔ اس وقت انھوں نے مسجد میں بڑی اثر انگیز تقریر کی۔ انھوں نے فرمایا " اے لوگو! میں تمھارا حاکم بنایا گیا ہوں لیکن تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں نیک کام کروں تو اُس میں میری مدد کرو اور اگر مجھ سے کوئی بھول ہو جائے تو مجھے ٹوکو۔“

خلیفہ بننے کے بعد بھی حضرت ابوبکر صدیق سادہ زندگی گزارتے رہے۔ وہ موٹے جھوٹے کپڑے پہنتے اور معمولی کھانا کھاتے تھے۔ غریبوں اور مسکینوں پر بے حد مہربان تھے۔ وہ محتاجوں کی ضرورت اس طرح پوری کرتے کہ دوسروں کو خبر تک نہ ہوتی۔

حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کی مدت دو برس اور تین مہینے تھی۔ اتنی مختصر مدت میں اُنھوں نے جس خوبی سے اپنی ذمے داریوں کو پورا کیا ، اُس کی مثال ملنی مشکل ہے۔

حضرت ابوبکر کو کئی باتوں میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔ مردوں میں سب سے پہلے انھیں نے اسلام قبول کیا۔ قرآن مجید کو سب سے پہلے کتابی شکل میں جمع کرایا اور اسلامی ریاست میں بیت المال قائم کیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں صدیق کا لقب دیا تھا۔ وہ پہلے شخص ہیں جن کو پیارے نبی نے کسی لقب سے نوازا۔

حضرت ابوبکر تقریباً تیس سال اللہ کے رسول کی پاک صحبت میں رہے۔ وہ ایک دن کے لیے بھی حضور سے جدا نہیں ہوئے۔ بڑی سے بڑی مشکل میں بھی انھوں نے آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا اسی لیے ایک موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جان و مال کے لحاظ سے ابوبکر سے زیادہ مجھ پر کسی اور کا احسان نہیں ہے ۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر رونے لگے اور لگے اور عرض کی، یا رسول اللہ ! یہ جان و مال کیا کسی اور کے لیے ہیں؟ ایک موقع پر حضور نے فرمایا  ،    ابو بکر    !   میں      نے     تمام     لوگوں  کے  احسانات    کا   بدلہ    چکا    دیا  ہے   لیکن      تمھارے   احسانوں  کا   بدلہ  اللہ   تعالیٰ     دے  گاـ،،

حضرت ابو بکر صدیق کا انتقال ۶۳ برس کی عمر میں ہوا۔ انھیں مسجد نبوی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

***


Post a Comment

Previous Post Next Post

Ad 1

Ad 2