TEEN
KACHUWE BY ATHAR PARVEZ
تین کچھوے-اطہر پرویز
ایک
مرتبہ کا ذکر ہے، تین کچھوے پانی میں رہتے رہتے اُکتا گئے ۔ انھوں نے سوچا کہ
پہاڑوں کی سیر کرنا چاہیے جہاں سمندر کی طرح طوفان نہیں آتے اور ہر وقت امن و سکون
ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر تینوں پہاڑ کی سیر کے لیے نکل پڑے۔ انھوں نے اپنے ساتھ کھانے
کا بہت سا سامان لیا۔ ان کا سفر بہت لمبا تھا کیونکہ سمندر سے پہاڑ کا فاصلہ سیکڑوں میل کا تھا۔ پھر یہ کہ
کچھوے رینگ کر بھی تو چلتے ہیں۔
تینوں
کچھوے پہاڑ کی طرف چلتے رہے۔ چلتے رہے۔ راستہ لمبا تھا اور ہر طرف جھاڑ جھنکاڑ۔ لیکن
کچھوے بھی ڈھن کے پتے تھے۔ وہ ہر تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے ۔
آخر کار ان کو بہت دور پہاڑ دکھائی دیے جو برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ ان کو یہاں
پہنچتے پہنچتے بیسیوں سال گزر گئے ۔ اتنے دنوں کے بعد جو انھیں منزل دکھائی دی تو
ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ انھوں نے پہاڑ کے دامن میں ایک اچھی سی جگہ
پسند کی اور سوچا کہہ یہاں کچھ دن آرا آرام کریں۔ہوا
ہلکے ہلکے چل رہی تھی۔ سردی کا زمانہ تھا لیکن کچھوے کا خول اتنا موٹا اور سخت
ہوتا ہے جیسے فولاد۔ اس پر سردی کا کیا اثر ہوتا۔ برفیلی ہوائیں آتیں تو کچھوے
اپنا منہ موٹے خول میں چھپا لیتے۔ انھیں پتا بھی نہ چلتا کہ ہوا کتنی ٹھنڈی ہے۔
کچھووں
کو یہاں پہاڑ کے دامن میں بہت اچھا لگا۔ انھیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ آدمی بھی کیسا
۔ بے وقوف ہے جو اتنی اچھی جگہ چھوڑ کر سمندروں میں گھومتا پھرتا ہے۔ ان کو بہت
زور کی بھوک لگی ۔ وہ کھانے کی تیاری کرنے لگے۔ انھوں نے بہت سے بڑے بڑے پتے اکٹھے
کیے۔ بڑے سلیقے سے ان پتوں پر اپنا کھانا رکھا۔ جب کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو دیکھا
کہ یہاں پانی کا نام ونشان بھی نہیں۔ ہر طرف برف ہی برف ہے۔ تب انھیں خیال آیا کہ
اب کھانے کے بعد پینے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا ؟ پھر اگر پاس پڑوس میں پانی ملا
بھی تو پتا نہیں کیسا ہو؟ ان کی عادت سمندر کا پانی پینے کی تھی۔ اس سے ان کا
کھانا ہضم ہوتا تھا۔ تینوں کچھوے سوچ میں پڑ گئے ۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کیا
جائے ۔ وہ ایک دوسرے کی مانہ طرف دیکھنے لگے ۔ تب بڑے کچھوے نے منجھلے کچھوے سے
کہا، " تم جاؤ اور سمندر سے پانی لے
آؤ۔ پھر ہم اطمینان سےبیٹھ کر کھائیں
گے۔
منجھلا کچھوا بولا ” میری
رائے تو یہ ہے کہ چھوٹے کچھوے کو جانا چاہیے۔ وہ اس وقت بھی خاصا چست و چالاک
معلوم ہوتا ہے، میں تو بہت تھک گیا ہوں ۔
چھوٹے کچھوے نے بہت آنا
کانی کی مگر دونوں اس کے پیچھے پڑ گئے اور اس کی ایک نہ چلی۔ مجبور ہوکر چھوٹے
کچھوے کو ان کی بات ماننی پڑی۔ وہ بولا ،’’ میں چلا تو جاؤں گا مگر مجھے یقین ہے میرے
جانے کے بعد تم میرا انتظار کیے بغیر کھانا چٹ کر جاؤ گے۔“
دونوں کچھووں نے کہا، یہ
کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم تمھارا انتظار کریں گے، کرتے رہیں گے۔“
چھوٹا کچھوا سنجیدگی سے
بولا ،” مجھے یقین ہے کہ تم میرا انتظار نہیں کرو گے۔“ مگر دونوں نے بڑی خوشامد کی
اور اس سے خوب پکا وعدہ کر لیا کہ جب تک تم نہ آؤ گے، ہم کھانے کو ہاتھ نہ لگائیں
گے۔
آخر
چھوٹا کچھوا چلا گیا۔ اب دونوں کچھوے بیٹھے انتظار کرتے رہے۔ انتظار کرتے کرتے مہینے
گزر گئے، سال گزر گئے ۔ دس سال گزرےبیس سال گزرےےتیس سال گزرے، چالیس سال گزرے، یہاں
تک کہ پچاس سال گزر گئے مگر چھوٹے کچھوے کو نہ آنا تھا، نہ آیا۔ اب تو ان دونوں کا
مارے بھوک کے برا حال ہو گیا۔ اُن کو یقین ہو گیا کہ ضرور کوئی نہ کوئی حادثہ پیش
آیا ہے ورنہ، کوئی وجہ نہ تھی کہ چھوٹا کچھوا پانی لے کر نہ آتا۔ انھوں نے سوچا اب
زیادہ انتظار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر اس کو آنا ہوتا تو اب تک آجاتا۔
آخر
بھوک سے بے قابو ہو کر دونوں کچھوے کھانے کی طرف بڑھے۔ انھوں نے ابھی کھانے میں
ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ چھوٹا کچھوا چٹان کے پیچھے سے اچانک سامنے آیا اور بولا ” میں
جانتا تھا کہ تم دونوں ہرگز میرا انتظار نہ کرو گے اس لیے تو میں پانی لانے گیا ہی
نہیں۔ یہیں بیٹھا ہوا سب دیکھ رہا تھا ۔ دونوں کچھوے بھونچکا رہ گئے ۔ کہتے تو کیا
کہتے !