بالوں کی سنتیں
Balon ki
Sunnatein
- نبی کریم ﷺ کے مبارک بالوں کی لمبائی کانوں کے درمیان تک اور دوسری روایت کے مطابق
کانوں تک اور ایک روایت کے مطابق کانوں کی لو تک ۔ ان روایات کے علاوہ ایک روایت
کندھوں تک یا کندھوں کے قریب تک ہونے کی بھی ہے(۱)
- سارے سر کے بال رکھے یا پورے سر کے بال منڈوائے ۔ ایک حصہ کے بال رکھنا اور ایک حصہ کے بال منڈوانا یا تر شوانا حرام ہے ۔ (۲)
- حدیث میں حکم وارد ہے داڑھی بڑھائیں اور مونچھ کتر وائیں ایک مشت سے کم داڑھی کٹوانا یا منڈوانا حرام ہے۔(۳)
- مونچھوں کو کترنے میں مبالغہ کرنا سنت ہے(۴)
- زیر ناف ، بغل اور ناک کے
بال لینا سنت ہے چالیس دن گزر جائیں اور صفائی نہ کرے تو گناہ گار ہو گا ۔(۵)
- بالوں کو دھونا ، تیل لگانا ، کنگھا کرنا مسنون ہے لیکن ایک آدھ دن درمیان میں چھوڑ دینا چاہئے ۔(۶)
- جب سر میں تیل ڈالنے کا ارادہ ہو تو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں تیل لیکر پہلے ابرؤں پر پھر آنکھوں پر اور پھر سر میں تیل ڈالیں(۷)
- سر میں تیل ڈالنے کی ابتداء پیشانی کی جانب سے کرنا ۔(۸)
- کنگھا کریں تو پہلے دائیں جانب سے شروع کریں۔ (۹)
- کنگھا کرتے ہوئے یا حسب ضرورت جب آئینہ دیکھیں تو یہ دعاء پڑھیں اللهم انتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنُ خُلُقِي ترجمہ : اے اللہ آپ نے میری صورت اچھی بنائی میرے اخلاق بھی اچھے کر دیجئے(۱۰)
- اگر کسی کے ڈاڑھی کے بال سفید ہوں تو مہندی کا خضاب سنت ہے ہاں سیاہ خضاب نہ لگائے وہ مکروہ ہے۔(۱۱)
- داڑھی ایک مشت رکھنا سنت ہے ۔ داڑھی کا بھر پور ہونا کمال زینت اور جمال مومن ہے مگر داڑھی کی غیر معمولی درازی خلاف سنت ہے۔ (۱۲)
حوالاجات:
- (مسلم : ۲۵۸) (شمائل ترندی :(۴) (ابو
داود : ۵۷۶/۲) (نسائی
: ۲۷۶/۲) (ابن
ماجه : ۲۶۷)
- (نسائی : ۲۷۵/۲) (زاد المعاد : ج اقسط ۲۴/۱)
- (بخاری شریف : ۸۷۵/۲) (ترندی : ۱۰۰/۲) (ابو داؤد : ۲/۵۷۷) (مشکوۃ : ۳۸۰/۲)
- ( بخاری شریف : ۸۷۴/۲) (ابو داؤد :۵۷۷/۲) (نسائی : ۲۷۵/۲)
(مشکوۃ : ۳۸۰/۲)
- ( بخاری شریف : ۹۳/۲) (ترندی : ۱۰۰/۲) (ابو داؤد : ۵۷۷/۲) (نسائی : (۲۷۵/۲)
- (شمائل ترندی : (۴) (ابو داؤد : ۵۷۳/۲)
- (ابن سنی : ۶۱ )
- (بخاری شریف :۸۷۸/۲) (شمائل ترمذی : (۴) (نسائی : ۲/ ۲۷۵) (شمائل نبوی مطبع کراچی : ۴۱۵)
- (زاد المعاد : ۱۲۴/۱، قسط (۱)
- (ابن سنی ) (حصن حصین،
مترجم : ۳۴۶) (شمائل
نبوی مطبع کراچی : ۴۱۵)
- ( مسلم : (۲۵۸) (شمائل ترمذی : (۴) (ابو داود : ۵۷۸/۲) (نسائی :۲۷۷/۲) (ابن ماجہ : ۲۶۷)
- (مستفاد فتاوی رحیمیہ : ۲۱۵/۳) ڈاڑھی
اور انبیاء کی سنتیں : ۱۸
حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب دامت بر کاتہم )