ASHAAR BA UNWAN ISHQUE|اشعار بہ عنوان عشق

Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ASHAAR BA UNWAN ISHQUE|اشعار بہ عنوان عشق

اشعار بہ عنوان عشق
ASHAAR BA UNWAN ISHQUE

 

میرے بیٹے کسی سے عشق کر

مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

ڈاکٹر راحت اندوری


عشق نے    غالب نکماّ کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

مرزا غالبؔ

 

بےوجہ نہیں رو تا عشق میں کو ئی    غا لب

جسے خود سے بڑھ کے چا ہووہ رُلاتا ضرور ہے

مرزا غالبؔ

 

ہم جہاں پر ہیں وہاں خوا ہش کا ہونا ہے ہرام

اور ہوں گے عشق میں جن کو سہولت چا ہیے

مرزا غالبؔ

 

ہم تیرے عشق میں اُس مقام پرآپہنچے

جہاں دٍل کسی اور کو چا ہے تو گناہ لگتا ہے

مرزا غالبؔ

 

رشوت  بھی نہیں لیتا کم بخت جان چھوڑ نے کی

یہ عشق مجھے بہت ا یماندارہے

مرزا غالبؔ

 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

 

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

 

عشق اور سکون وہ بھی دونوں ایک ساتھ

رہنے دو غالب کوئی عقل کی بات کرو

مرزا غالبؔ

 

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

مرزا غالبؔ

 

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

علامہ اقبالؔ

 

عشق تری انتہا عشق مری انتہا

تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی ناتمام

علامہ اقبالؔ

 

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

علامہ اقبالؔ

 

 علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن

عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن

علامہ اقبالؔ

 

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ

عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پر حرام

علامہ اقبالؔ

 

عشق کی اندھی راہ میں

درد کو بھر کے آہ میں

فقر سے رسم و راہ میں

ایک فقیر چل بسا

اور کسی نواب کی نیند خراب ہوگئی

 

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

 

 مكتب عشق سے ہر کوئی واقف نہیں صاحب

پالینا ہی عشق نہیں فنا ہونا بھی عشق ہے

 


Post a Comment

0 Comments