Nicolas Maduro Bus Driver se Americi Qued Tak| بس ڈرائیور سے امریکی قید تک:نکولس مادورو کے عروج و زوال کی داستان

Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Nicolas Maduro Bus Driver se Americi Qued Tak| بس ڈرائیور سے امریکی قید تک:نکولس مادورو کے عروج و زوال کی داستان

 بس ڈرائیور سے امریکی قید تک:نکولس مادورو کے عروج و زوال کی داستان

محمد انیس الرحمن خان | نئی دہلی

Nicolas Maduro Bus Driver se Americi Qued Tak
By Muhammad Anis-ur-Rahman Khan

 

Nicolas Maduro Bus Driver se Americi Qued Tak

دنیا کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات کا عروج جتنا غیر معمولی ہوتا ہے، ان کا زوال اتنا ہی چونکا دینے والا ثابت ہوتا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو بھی انہی کرداروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک عام بس ڈرائیور سے لاطینی امریکہ کے ایک اہم ملک کی صدارت تک پہنچنے اور پھر دنیا کی سب سے طاقتور ریاست امریکہ کی قید میں جانے تک کا سفر، محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، سیاست اور انجام کی ایک عبرتناک داستان ہے۔

ایک عام آدمی کی غیر معمولی کہانی

نکولس مادورو کی زندگی کسی اشرافیہ سیاستدان کی کہانی نہیں۔ 1962 میں کاراکاس کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے مادورو نے نوجوانی میں محنت کش طبقے کی تلخ حقیقتوں کو قریب سے دیکھا۔ روزگار کے لیے انہوں نے بس چلائی، پسینے کی کمائی کی اور عوام کے دکھ درد کو جانا۔ یہی تجربہ انہیں ٹریڈ یونین کی سیاست کی طرف لے گیا، جہاں وہ آہستہ آہستہ مزدوروں کی آواز بن کر ابھرے۔

 

ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب ان کا رابطہ وینزویلا کے انقلابی رہنما ہیوگو شاویز سے ہوا۔ 1992 میں شاویز کی ناکام بغاوت اور قید کے بعد، مادورو ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ان کی رہائی کے لیے قانونی اور عوامی سطح پر جدوجہد کی۔ یہی وفاداری بعد میں ان کے لیے اقتدار کی سیڑھی ثابت ہوئی۔

شاویز کے دور میں مادورو وزیرِ خارجہ اور پھر نائب صدر بنے۔ 2013 میں شاویز کے انتقال کے بعد، انہی کی خواہش کے مطابق مادورو نے وینزویلا کی صدارت سنبھالی۔

Muhammad Anis-ur-Rahman Khan

 اقتدار، بحران اور بڑھتی تنہائی

 اقتدار سنبھالتے وقت وینزویلا تیل کی دولت کے باوجود شدید معاشی مسائل میں گھرا ہوا تھا۔ مادورو نے شاویز کے سوشلسٹ نظریے کو جاری رکھنے کا اعلان تو کیا، مگر تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی، ناقص معاشی پالیسیوں اور امریکی پابندیوں نے حالات کو بد سے بدتر کر دیا۔

 

ملک تاریخ کی بدترین مہنگائی کا شکار ہوا۔ خوراک اور ادویات نایاب ہو گئیں، لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اس دوران مادورو پر یہ الزامات بھی لگنے لگے کہ ان کی حکومت بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات کے بجائے انہوں نے طاقت کے استعمال اور سیاسی مخالفین کو دبانے کا راستہ اختیار کیا۔

 جنوری 2026: ایک چونکا دینے والا موڑ

 جنوری 2026 کی ایک رات نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ امریکہ کافی عرصے سے نکولس مادورو پر ’’نارکو ٹیررازم‘‘ کے الزامات لگا رہا تھا، مگر کسی نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ واشنگٹن براہِ راست کارروائی کرے گا۔

 

3 جنوری 2026 کو امریکی اسپیشل فورسز نے کاراکاس میں ایک خفیہ اور تیز رفتار آپریشن کیا۔ مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ ایک ’’مطلوب ملزم‘‘ کو گرفتار کرنا تھا۔ چند ہی گھنٹوں میں مادورو کو حراست میں لے کر نیویارک کی ایک وفاقی جیل منتقل کر دیا گیا۔

 

ٹی وی اسکرینوں پر وہ مناظر دنیا نے دیکھے جن پر یقین کرنا مشکل تھا۔ ایک شخص جو کچھ دیر پہلے تک ایک ملک کا صدر اور کمانڈر ان چیف تھا، اب امریکی عدالت میں ہتھکڑیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ عدالت میں مادورو کا یہ کہنا کہ ’’میں جنگی قیدی ہوں‘‘، ان کی بے بسی اور شکست کی علامت بن گیا۔

 وینزویلا کے لیے آگے کیا؟

 مادورو کی گرفتاری نے وینزویلا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

 سیاسی طور پر، حکمراں جماعت کے اندر اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے جمہوریت کی واپسی کا موقع قرار دے رہی ہے۔

 معاشی سطح پر، اگر پابندیاں ختم ہوئیں تو بحالی کی امید پیدا ہو سکتی ہے، مگر فوری طور پر بے یقینی عام آدمی کی مشکلات بڑھا سکتی ہے۔

 عالمی سطح پر، روس، چین اور ایران نے اس گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جس سے عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 انجام یا آغاز؟

 نکولس مادورو کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی اعتماد کے بغیر، محض طاقت اور وفاداریوں کے سہارے اقتدار کو ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رکھا جا سکتا۔

بس ڈرائیور سے امریکی قید تک:نکولس مادورو کے عروج و زوال کی داستان

آج وینزویلا کی سڑکوں پر ایک عجیب خاموشی ہے۔ یہ خاموشی یا تو کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے یا پھر ایک نئے دور کا آغاز۔ دنیا کی نظریں نیویارک کی اس عدالت پر جمی ہیں جہاں ایک سابق صدر کا فیصلہ ہونا ہے، مگر وینزویلا کے عوام کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔


Post a Comment

0 Comments