BAHADDUR BACCHE BY
SARFARAZ AARZOO
بہادربچّے-سرفراز آرزو
ممبئی
میں تیز بارش سے کبھی کبھی سیلابی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ لوگوں کا باہر نکلنا مشکل
ہوتا ہے۔ ممبئی کے مانخورد علاقے میں چلڈرن ایڈ سوسائٹی نامی ادارہ بچوں کے لیے ایک
بال گھر چلاتا ہے۔ ایک دن لگا تار بارش ہو رہی تھی۔ باہر پانی کی سطح بڑھتی جارہی
تھی اس لیے بال گھر کے بچے ایک کمرے میں سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ ان بچوں میں اسما بھی
شامل تھی جسے دوسرے بچے دیدی کہہ کر پکارتے تھے۔
اسما
کو خدشہ محسوس ہوا کہ پانی اگر اسی طرح بڑھتا رہا تو سب بچے ڈوب جائیں گے۔ یہ خیال
آتے ہی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے دو چھوٹے بچوں کو کندھوں پر بٹھایا اور کیچڑ بھرے
پانی میں اُتر پڑی۔ اسے تیر نا نہیں آتا تھا۔ اس کے باوجود گلے تک اونچے پانی میں
آہستہ آہستہ چل کر اس نے ان دونوں بچوں کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ اسما دوسرے
بچوں کو لے جانے کے لیے بار بار چکر لگاتی رہی۔ اس طرح اس نے چالیس بچوں کو اپنے
کندھوں پر بٹھا کر خطرے سے باہر نکالا۔ یتیم خانے میں پلنے والی اس بہادر بچی نے
ہر بار اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسرے بچوں کی جان بچائی اور ہمت اور قربانی کی
ایک عمدہ مثال قائم کی۔
ممبئی
کی اسما کی طرح راجستھان کے ایک ۱۵
رسالہ لڑکے سُدھیر کی کہانی بھی بڑی ولولہ انگیز ہے۔ ایک رات وہ اپنے گھر میں بیٹھا
تھا۔ اچانک بجلی چلی گئی اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اسی وقت پڑوس سے کچھ
عورتوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہاں خوب تیز روشنی بھی دِکھائی دے رہی
تھی۔ سُدھیر کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ روشنی کیسی ہے۔ اس نے اپنے گھر کی دیوار
سے چھلانگ لگائی اور پڑوس کے گھر میں پہنچ گیا۔ وہاں چاروں طرف دھواں پھیلا ہوا
تھا اور کمرہ بھی بے حد گرم تھا۔ سدھیر نے دیکھا ایک کونے میں چار عورتیں ڈری سبھی
بیٹھی ہیں۔ وہ دھویں کی وجہ سے بار بار کھانس رہی ہیں اور مدد کے لیے چلا رہی ہیں
۔
کمرے کے وسط میں رکھی ہوئی
گیس بتی سے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ اس کے قریب ہی ایک گیس سلنڈر رکھا ہوا تھا۔ اسے
دیکھ کر سدھیر کو اندیشہ ہوا کہ گیس بھی کبھی بھی پھٹ سکتی ہے۔ اگر اس کی آگ نے گیس
سلنڈر کو اپنی لپیٹ میں لےلیا تو بڑی تباہی آجائے گی۔ اس نے اپنی جان کی پروا نہ
کرتے ہوئے جلتی ہوئی گیس بتی کو اٹھایا ، دوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکلا اور اسے دور
پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ انتہائی پھرتی سے باہر سے مٹی لا لا کر کمرے کی آگ پر
ڈالتا گیا اور اسے بجھانے میں کامیاب ہو گیا۔
اس
دوران میں وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو چکی تھی ۔ سب سُدھیٖر کی تعریف کر رہے تھے۔
اس کی حاضر دماغی اور بہادری سے نہ صرف چار عورتوں کی جان بچ گئی بلکہ پورا محلہ ایک
بڑے نقصان سے بچ گیا۔
بہادری
کے لیے قومی انعام پانے والوں میں جلگاؤں کے ایک طالب علم سنتوش کا بھی شمار ہے۔ ایک
دن سنتوش اپنے اسکول سے لوٹ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سڑک پر ایک کار میں آگ لگی
ہے۔ کار میں دو بچیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ وہ روئے جارہی ہیں اور زور زور سے چلا رہی ہیں۔
لوگ خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں۔ جلتی ہوئی کار کے پاس جانے کی کوئی ہمت نہیں کر رہا
ہے۔ سنتوش اس بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے کار
کے ایک دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہو گیا اور شعلوں میں گھری ہوئی دونوں بچیوں
کو کار سے باہر نکال لایا۔ سارے لوگ سنتوش کی اس بہادری پر ششدر رہ گئے۔
یہ
نہ سمجھا جائے کہ کچھ خاص بچے ہی بہادر ہوتے ہیں۔ وقت پڑنے پر ہر بچہ بہادری کا
مظاہرہ کر سکتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے ایک اسکول کی پانچویں جماعت میں پڑھنے والی انیتا
بھی ایسی ہی ایک عام سی بچی ہے۔ ایک روز وہ اپنی تعین سہیلیوں کے ساتھ گھر کے قریب
ایک نالے کے پاس سے گزر رہی تھی۔ اچانک اس کی سہیلی کو بتا کو جانے کیا سوجھی کہ
پانی میں اُتر کر کھیلنے لگی۔ سہیلیوں نے اُسے روکنا چاہا لیکن اس نے ایک نہ سنی
اور کھیلتی رہی۔ اتنے میں ایک بڑی لہر آئی اور کو بتا کو گہرے پانی میں بہانے گئی۔
وہ بھنور میں غوطے کھانے لگی۔ انیتا کی سہیلیاں یہ منظر دیکھ کر گھبرا گئیں اور
بھاگ کھڑی ہوئیں۔ مگر انیتا کو گوارا نہ ہوا کہ اپنی سہیلی کو موت کے منہ میں چھوڑ
کر اس طرح بھاگ جائے ۔ اس نے بے خطر پانی میں چھلانگ لگا دی اور نالے کے کنارے
اُگے ہوئے پودوں کو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی سہیلی
کا ہاتھ پکڑ کر پوری طاقت سے اوپر کھینچنے لگی ۔ آخر وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئی۔
اس نے اپنی سہیلی کو ڈوبنے سے بچالیا۔
ہمارے
ملک میں بچوں کی بہادری کے ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔ راجدھانی دہلی میں ہر
سال ۲۶
جنوری کو یوم جمہوریہ دریہ کے موقع پر شاندار پریڈ ہوتی ہے اور طرح طرح کی جھانکیاں
دکھائی جاتی ہیں۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ سے انعام حاصل کرنے والے ان بہادر بچوں
کو خصوصی طور پر اس پریڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی بہادری کے واقعات اخبارات ،
ریڈیو اور ٹیلی وَژن کے ذریعے ملک کے کونے کونے میں پہنچائے جاتے ہیں۔ ان واقعات
سے ہر شہری کو دوسروں کی مدد کرنے اور ان کے کام آنے کی ترغیب ملتی ہے۔