GAPBAZI KI SAZA BY ISMAT CHUGHTAI|گپ بازی کی سزا-عصمت چغتائی

گپ بازی کی سزا-عصمت چغتائی
GAPBAZI KI SAZA BY ISMAT CHUGHTAI


ببلو کو ہمیشہ سے گپیں مارنے کا شوق تھا۔ ایسی ایسی ہانکتے کہ بس کیا بتائیے۔ ایک دن کہنے لگے، آئس لینڈ میں برف ہی برف ہوتی ہے۔ لوگ برف کے گھروں میں رہتے ہیں۔ وہاں برف کی سڑکیں، برف کے سنیما گھر، برف کے اسکول ہوتے ہیں۔ وہاں سب پیڑ برف کے ہوتے ہیں۔ آئس کریم کی نارنگیاں، کیلے، ناشپاتیاں، امرود، انناس اور آم ہوتے ہیں۔ وہاں بھیڑیں اور بکریاں چاکلیٹ آئس کریم کی ہوتی ہیں اور برف کی لال لال آگ پر برف کی روٹیاں پکتی ہیں۔“ بے وقوف ! برف کی کیسے آگ سلگ سکتی ہے۔ جمّو سے زیادہ ضبط نہ ہو سکا۔

جلتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے ۔“

نہیں بیٹے !برف کی آگ نہیں جلتی ۔ ابّا نے نہایت عالمانہ انداز میں عینک کے اوپر سے جھانک کر سمجھایا۔ نہیں ابّا جلتی ہے ۔ بہلو نے بگڑ کر کہا۔

تم نہایت بے وقوف ہو۔ نِرے احمق ....!‘‘ ابا نے ڈانٹ کر ثابت کر دیا کہ بلو گپ ہانک رہا ہے۔

بلو کا بہت مذاق اُڑا اور ایک دم سے ان کی گپ بازی کی دھوم مچ گئی۔ اب تو یہ حال ہو گیا کہ اگر ببلو کہتے ” اماں ہمیں بھوک لگی ہے تو کوئی یقین نہ کرتا۔

ایک دن جب بہلو اپنے کمرے میں سونے کے لیے گئے تو وہاں سے سرپٹ دوڑتے ہوئے آئے اور دادی اماں کی گود میں چڑھ گئے۔

اے ببلو ہوتے کیوں نہیں ، جاؤ اپنے کمرے میں ۔ دادی اماں بولیں ۔

نہیں

"کیوں؟

’’شیر!‘‘

"شیر ! کیسا شیر؟"

شیر !                   ....         ِاتّا بڑا !!                ..                .          .                جتنے ہاتھ پھیل سکے پھیلا کر ببلو نے ناپ بتایا۔

کہاں ہے شیر؟ ابا جان نے غصہ کر کے پوچھا۔

”ہمارے پلنگ کے نیچے“

پھر تم جھوٹ بولے ۔ ابا نے بڑی بڑی آنکھیں نکالیں ۔

سچ...... اللہ  قسم!.....

جھوٹا کہیں کا .....‘‘دادی اماں نے زور کا دھپ جمایا اور پہلو کو اپنی گود سے بیگن کی طرح لڑھکا دیا۔

چل سیدھی طرح جا کے سو اپنے کمرے میں .... اماں نے للکارا۔

نہیں ......اماں ... شیر !

ہر وقت جھوٹ بولتا ہے ۔ اماں بولیں۔

کس قدرگپّیں تراشتا ہے نالائق ۔ ابا نے رائے دی۔

ڈرپوک بنا دیا ہے اماں باوا نے لاڈ کر کے۔ دو کوڑی کا نہیں رہا بچہ ۔‘‘دادی اماں نے طعنہ مارا۔

بڑی دیر تک بلو کے جھوٹ پر تبصرہ ہوتا رہا۔ پھر لوگ ادھر اُدھر کی باتوں میں ببلو اور شیر دونوں کو بھول گئے ۔

سب سونے کا پروگرام بنا ہی رہے تھے کہ میوہ رام مالی بوکھلایا ہوا آیا۔

مجیب میاں، باہر دروغہ جی کھڑے ہیں ۔‘‘

دادی اماں بڑ بڑائیں ، ‘‘لوگ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔ جان کو لگ گئے ہیں ۔“

ارے بلاؤ، بلاؤ ۔ آئیے انسپکٹر صاحب کیسے تکلیف فرمائی ؟ ابا نے چبوترے پر سے پکارا۔

انسپکٹر کے ساتھ ایک مچھے دار مونچھوں والے صاحب بھی تھے۔ وہ میوہ رام سے بھی زیادہ سٹپٹائے ہوئے تھے۔ دو

چار لاٹھی بند کانسٹیبل بھی تھے۔ ابا گھبرائے، کیا گڑ بڑ ہو گئی ؟

خیریت تو ہے؟“ ابا نے پوچھا۔

ویسے سب خیریت ہے ۔ یہ سرکس کے منیجر صاحب ہیں ۔ اُنھوں نے کچھے دار مونچھوں والے کی طرف اشارہ کیا۔

آداب عرض ! آپ سے مل کر بڑی مسرت ہوئی ۔ ابا بولے ۔

صاحب !.... وہ بات یہ ہے کہ سرکس کا ایک شیر چھوٹ گیا ہے۔“

"شیر!‘‘

جی ، شیر . نہایت خوں خوار ہے۔ کل رنگ ماسٹر کو بھی بھنجھوڑ ڈالا ہوتا، بال بال بچے۔ ابھی آپ کے پڑوس سے رئیس صاحب نے فون کیا کہ ایک عدد شیر آپ کے باغ میں گھومتا دیکھا گیا ہے۔

با......باغ ....شیر ....ببلو ! ‘‘ایا مونڈھے پر ڈھلک گئے ۔

ببلوسچ کہہ رہا تھا ۔‘‘ انھوں نے سہم کر بہلو کے کمرے کی طرف دیکھا جس کا ایک دروازہ باغ کی طرف کھلتا تھا۔ ہائے... لوگو، میرا ببلو ...!‘‘اماں جو کمرے سے سب کچھ ٹن رہی تھیں، پچھاڑ کھا کر گدے پر گریں۔ پھر اُٹھ کر وہ دوڑیں بہلو کے کمرے کی طرف۔ اگر ابا نے انھیں پکڑ نہ لیا ہوتا تو وہ سیدھی شیر کے جبڑوں میں گھس جاتیں۔

"ہائے میرا بچہ .... ارے ، مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا کہ تم لوگوں پر بھاری ہے بچہ ... اس کی جان لے کر چین آیا ۔ حسب دستور دادی اماں نے گھبرائے ہوئے اماں اور ابا کی ٹانگ لی۔

ہائے میرا ننّھا منّا بہلو۔ شیر نے چبا ڈالا ، اور اُس نے ڈر کے مارے آواز بھی تو نہیں نکالی ۔ خالہ اماں رونے لگیں اور جمو شبو بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔

ابا کا برا حال ہو گیا۔ وہ تو خالی ہاتھ ہی گھس کر شیر سے گتھ جانا چاہتے تھے۔ ان کا بس نہ تھا کہ شیر کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنے لاڈلے بہلو کو نکال لائیں ۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے انھیں دلا سا دیا۔ بندوقیں اور لاٹھیاں لے کر سب آہستہ آہستہ بہلو کے کمرے کی طرف بڑھے۔ اندر جھانکا تو دو بڑے بڑے انگارے پلنگ کے نیچے دہک رہے تھے۔ شیر پلنگ کے نیچے تھا لیکن ببلو کا کہیں پتا نہیں تھا۔

گھر میں کہرام مچ گیا۔ سرکس کے منیجر پنجرہ ساتھ لائے تھے۔ بڑی مشکل سے شیر کو پنجرے میں ڈالا گیا۔

تعجب ہے !  نہ خون کے نشانات ہیں نہ ہڈیاں ! انسپکٹر صاحب بولے۔

ارے ، وہ نگوڑا تھا ہی کتّا۔ ہائے میرا پھول سا ببلو ! ‘‘دادی اماں کو غش آنے لگا۔

ایک دم آپا کی فلک شگاف چیخ فضا میں گونجی اور وہ لڑکھڑاتی آکر چوکی پر گریں۔ بی بی ... ببلو‘‘ جیسے انھوں نے بھوت دیکھ لیا ہو۔

کہاں .... کدھر ؟ سب نے اُنھیں ہلا ڈالا۔

غو..... غو .....غسل خانہ....‘‘

اماں دوڑیں۔ ابا نے لپک کر انھیں پکڑ لیا۔ بل کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر کہیں وہ پاگل نہ ہو جائیں۔

کلیجاتھا مے اہا اور میوہ رام روتےبِلبِلاتے غسل خانے میں پہنچے لیکن وہاں کوئی لاش نہ تھی۔ ہاں ، بہلو میاں گٹھری بنے گھڑے کے پاس اکڑوں بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

نا معقول یہاں بیٹھا ہے اور ہم ناحق پریشان ہو رہے ہیں ۔‘‘ ابا نے ایک چپت لگائی اور کان پکڑ کر ببلو کو اُٹھا لیا۔ کہاں ماتم ہو رہا تھا، کہاں ایک دم شادیانے بجنے لگے ۔ سب نے ببلو کو گلے لگایا۔ ان کے اتنے لاڈ ہوئے ، اتنے صدقے اُتارے گئے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی اللہ میاں کے ہاں سے تشریف لا رہے ہیں۔ اس دن سے ببلو میاں نے گپ بازی بالکل چھوڑ دی۔


Post a Comment

Previous Post Next Post

Ad 1

Ad 2