جگنو-سکندرعلی وجدؔ
JUGNOO
BY SIKANDAR ALI WAJAD
برسات کی
رات تھی اندھیری
کچھ
نیند اُچٹ گئی
تھی میری
پانی جو برس
کے کُھل گیا
تھا
گلشن کا غُبار
دُھل گیا تھا
بیدار تھی
باغ میں اکیلی
پھولوں سے
لدی ہوئی چنبیلی
نکہت برباد ہورہی تھی
مخلوق تمام سو رہی تھی
اتنی میں جو رو چلی ہوا کی
قسمت ہی چمک گئئ
فضا کی
ہونے لگی
جگنوؤں کی بارش
فطرت کے
جمال کی تراوش
نہر وں
پہ تپاں تھے
برق پار
رقصاں تھے
زمیں پر ستارے
جگنو اس طر ح
اُڑ رہے تھے
ہیروں میں
پر لگے ہوئے
تھے
ظلمت موتی
اُڑ رہی تھی
پریوں کی
برات جا رہی تھی
میں اس منظر میں کھو گیا تھا
ہر موئے تن آنکھ ہو گیا
تھا