بِہارو
کا درخت: نسوانی خودداری کی علامتتحریر: انجم بانو،
ہریانہBiharo ka Darakhta : Niswani Khuddari ki Alamatby Anjum Bano Haryana
تفتیش
کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کو بیماری سے بچانے کے لیے اس
درخت سے تعویذ بنانے کی غرض سے یہ سب لے جا رہے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں… ایک
طرف گاؤں والے اس درخت کا پھل نہ کھانے کی تنبیہ کر رہے ہیں، اور دوسری طرف اسی
درخت سے اپنے جانوروں کا علاج بھی کر رہے ہیں!
ہم
ہریانہ کے ضلع یمنا نگر کے گاؤں بنیاؤالا میں ہیں، جہاں چاروں طرف گندم کی کٹائی
جاری ہے۔ تھک جانے پر کسان اس آموں کے باغ کی چھاؤں میں سستانے آتے ہیں۔ اسی گرم
دوپہر میں ہمیں ایک ایسے درخت کی کہانی سننے کو ملتی ہے، جو ہریانہ کی سرزمین پر
کھڑا ہے مگر جانا جاتا ہے ہزاروں کلومیٹر دور جھارکھنڈ کی ایک عورت کے نام سے۔
مقامی لوگ اسے ’بِہارو کا درخت‘ کہتے ہیں۔
یہ
درخت جھارکھنڈ، بہار، مغربی بنگال اور ہماچل جیسے ریاستوں سے بیاہ کر لائی گئی
عورتوں کے لیے اپنی ایک بہن کی جدوجہد، شناخت، وقار اور نسوانی خودمختاری کی ایک
جیتی جاگتی علامت بن چکا ہے۔
’بِہارو‘
لفظ ہریانہ میں کسی بھی دوسری ریاست سے بیاہ کر آئی عورت کو حقارت کے ساتھ پکارنے
کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ’بِہارو‘ کہلانے والی عورت اگر بہار کی نہ ہو، چاہے
وہ مغربی بنگال یا آسام کی ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔
اگر وہ ہریانہ کی نہیں ہے تو اسے نیچا دکھانے اور امتیاز برتنے کے لیے اس لفظ کا
اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے امتیازی ماحول میں ’بِہارو کا درخت‘ بیرونی
ریاستوں سے آئی عورتوں کے لیے فخر اور خودداری کی علامت بن چکا ہے۔
اس حقیقت کو جاننے کے لیے
جب ہم آس پاس کی عورتوں سے بات کرتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی کہانی اور سفر سے واسطہ
پڑتا ہے جو نسوانی جدوجہد کی ایک بے مثال مثال ہے۔
سن
1994 کی بات ہے۔ جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں منیہاری کُرما میں
نازنی اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔ بچپن ہی میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا
تھا۔ گھر میں چار بہنیں تھیں اور ماں اکیلے سب کچھ سنبھال رہی تھیں۔ ہر طرف تنگی
تھی—پیٹ بھر کھانا بھی نصیب نہیں تھا، پہننے کو ڈھنگ کے کپڑے نہیں تھے۔
ایسے میں ایک دن اچانک
نازنی کے چچا چند اجنبی لوگوں کو لے کر گھر آئے۔ بولے:
’’یہ لوگ ہریانہ سے آئے ہیں، اچھے گھر
کے ہیں۔ نازنی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں اسے اچھے سے رکھیں گے… اور ہاں،
تمہارے گھر والوں اور بہنوں کا بھی خیال رکھیں گے۔‘‘
چچا
کی باتیں سن کر اور حالات کو دیکھتے ہوئے نازنی کی ماں نے اس کی شادی ہریانہ سے
آئے ایک لڑکے سے کر دی۔ نازنی بیاہ کر ہریانہ کے لادوا گاؤں آ گئی—بہت دور، ایک
انجان زندگی کی طرف۔
نازنی
نے سوچا تھا کہ شادی کے بعد اس کی زندگی نئے رنگوں میں رنگ جائے گی—ایک ایسا گھر
ملے گا جہاں وہ اپنے خواب سجا سکے گی۔ لیکن جیسے ہی اس نے لادوا گاؤں میں سسرال کی
دہلیز پر قدم رکھا، اس کے سارے خواب مٹی میں ملتے چلے گئے۔
اس
کے ساتھ پہلا دھوکہ اسی دن ہوا، جب اسے معلوم ہوا کہ جس خاندان نے اس سے شادی کی
ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ جھوٹ بول کر، شناخت چھپا کر اسے ایک ایسے رشتے میں باندھ
دیا گیا تھا جو فریب اور دھوکے کی بنیاد پر قائم تھا۔
سسرال
اور آس پاس کے لوگ نہ اسے اپناتے تھے اور نہ ہی برابری کا درجہ دیتے تھے۔ اکثر اسے
“بِہارو” کہہ کر ذلیل کیا جاتا۔ جب اس نے اس ذلت کے بارے میں اپنے شوہر اور سسرال
والوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ اس کے اپنے چچا نے ہی کچھ پیسے لے کر اسے اس
جھوٹے رشتے میں دھکیل دیا تھا۔
نازنی
چاہ کر بھی اپنے جھارکھنڈ والے میکے واپس نہیں جا سکی۔ نہ راستہ معلوم تھا، نہ جیب
میں کرائے کے پیسے تھے۔
وقت
کے ساتھ حالات مزید بگڑتے گئے۔ سسرال والے اس کے ساتھ انسانوں جیسا نہیں بلکہ
جانوروں جیسا سلوک کرنے لگے۔ اسے باندھوا مزدور کی طرح کام پر لگایا گیا، کئی بار
پیٹ بھر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ جب وہ شوہر سے شکایت کرتی تو اس کے حصے میں
صرف مارپیٹ اور ذلت آتی۔
نازنی کا ہر آنے والا دن ایک نیا جہنم تھا۔
وہ
اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھا سکی، مگر کہتے ہیں نا کہ جب
بات بچوں پر آ جائے تو ماں پوری دنیا سے ٹکرا جاتی ہے۔ اس نے بیٹی کے لیے آواز
اٹھائی تو سسرال والوں نے ماں بیٹی دونوں کو گھر سے نکال دیا۔
نازنی
کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو لے کر کہاں جائے۔ ہاتھ میں پیسے نہیں تھے،
میکے واپسی کا راستہ بھی معلوم نہیں تھا۔ وہ بچی کو گود میں لے کر ریلوے اسٹیشن تو
پہنچ گئی، مگر آگے کہاں جانا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ چنانچہ وہ ریلوے اسٹیشن
پر ہی رہنے لگی اور مجبوری میں مانگے ہوئے پیسوں سے گزارا کرنے لگی، مگر یہ زندگی
اسے قبول نہیں تھی۔
کچھ
دن بعد نازنی نے ہمت جمع کی اور دوبارہ اپنے شوہر کے گاؤں بنیاؤالا پہنچ گئی۔ وہاں
اس نے گاؤں کے نمبردار سے ملاقات کی اور اپنی آپ بیتی سنا کر کام مانگا۔ نمبردار
نے اسے اور اس کی بیٹی کو کھانا دیا اور اپنے باغ کی دیکھ بھال کا کام سونپ دیا۔
نازنی کے لیے اب اس کی بیٹی اور یہ باغ ہی اس کی پوری زندگی بن گئے۔ وہ وہیں
جھونپڑی بنا کر رہنے لگی اور باغ کی نگرانی کرنے لگی۔
دو
سے تین سال گزر گئے۔ نازنی باغ سنبھالتی رہی اور اپنی بیٹی کی پرورش کرتی رہی۔ اسی
دوران اسی گاؤں کا ناظر گوجر اس سے ملا۔ اس کی کہانی جاننے کے بعد اس نے نمبردار
سے نازنی سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ نمبردار نے جب نازنی سے بات کی تو اس نے
پہلے انکار کر دیا، مگر بار بار سمجھانے اور بچی کے مستقبل کا واسطہ دینے پر وہ
شادی کے لیے راضی ہو گئی۔
یوں
نازنی اور ناظر گوجر کی شادی ہو گئی۔ ناظر مویشی پالنے کا کام کرتا تھا مگر مالی
حالت کمزور تھی، اس لیے نازنی نے باغ کی دیکھ بھال کا کام نہیں چھوڑا۔ وہ شوہر کا
ساتھ دیتی رہی، گھر کے کاموں کے ساتھ باغ اور آس پاس کے گھروں میں جانوروں کی دیکھ
بھال کا کام بھی کرتی رہی۔
وقت
کے ساتھ وہ پانچ مزید بچوں کی ماں بنی—یوں اب اس کے چھ بچے تھے۔ دوسرے شوہر سے اسے
تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے۔ زندگی کسی حد تک پٹری پر آ گئی تھی۔ مگر طوفان اکثر
خاموشی سے آتا ہے۔
زندگی
بہتر بنانے کی جدوجہد میں نازنی دن رات محنت کر رہی تھی، مگر کہتے ہیں نا کہ مرد
کی فطرت نہیں بدلتی۔ ناظر کا اپنے ہی گاؤں کی ایک دوسری عورت سے تعلق ہو گیا۔ اس
کے کہنے پر وہ نازنی کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگا۔ روزمرہ کی گھریلو کشمکش اور تشدد نے
نازنی کو ایک بار پھر دوراہے پر لا کھڑا کیا۔
اسی
دوران وہ شدید بیمار پڑ گئی۔ وہ عورت نازنی کے گھر آئی، شوہر کے سامنے ہی اسے
ڈرامہ کرنے کا طعنہ دیا، برا بھلا کہا اور اسے تھپڑ بھی مارا۔ یہ سب نازنی کے لیے
ناقابلِ برداشت تھا۔ زندگی بھر ظلم سہنے والی یہ خودمختار عورت اب مزید نہ سہہ
سکی۔ شوہر کی بے رخی اور اس کے سامنے پڑنے والے تھپڑ اس کے بس سے باہر تھے۔ وہ اسی
باغ میں گئی اور آم کے اسی درخت پر پھندا ڈال کر اپنی جان دے دی۔ یہ سن 2012 کی
گرمیوں کا واقعہ ہے۔
نازنی
کو اس دنیا سے گئے برسوں گزر چکے ہیں۔ اس کے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد اس کا شوہر
ناظر گوجر بھی کینسر سے وفات پا گیا۔ اس کے بچے آج بھی اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔
بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور بیٹے اپنی اپنی زندگیاں بہتر طریقے سے گزار رہے
ہیں۔
آج
بھی ’بِہارو کا درخت‘ نازنی کی جدوجہد، حوصلے اور خودداری کی گواہی دے رہا ہے۔ اس
نے کبھی کسی سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا؛ خود محنت کی، خود کمایا اور خود کھایا۔
زندگی نے اسے ٹھوکریں دیں، مگر جیتے جی بھی اور مرنے کے بعد بھی اس نے سب کو صرف
دیا ہی ہے۔
بیرونی
ریاستوں سے آئی عورتوں کے لیے ’بِہارو کا درخت‘ ان کے خود احترام کی علامت ہے—ایک
ایسا درخت جو انہیں اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا سبق دیتا ہے اور اپنے تنے سے سکھاتا
ہے کہ دکھوں اور برے دنوں کے باوجود اپنے وقار کے لیے ہمیشہ ڈٹے رہنا چاہیے۔
وہیں مقامی لوگوں کے لیے
یہ درخت دوا اور دعا کی پناہ گاہ ہے۔



0 Comments